شام کا بین الاقوامی فضائی آپریشن بشار الاسد کے ملک چھوڑنے اور باغی حکومت کے قبضے کے 29 دن بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
7 جنوری کو دوحہ سے پہلی کمرشل پرواز دمشق پہنچی، جس کے بعد دمشق سے شارجہ کیلئے پرواز روانہ ہوئی۔9 دسمبر کو شام میں احتجاج کرنے والے باغی گروپ نے دمشق پر چڑھائی کر کے ملک کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اسی دن سابق صدر بشار الاسد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ باغی حکومت نے اس کے بعد دمشق اور حلب ایئرپورٹس کا فلائٹ آپریشن بند کر دیا تھا۔ تاہم نئی حکومت نے 15 دسمبر کو فضائی حدود کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
ایئرپورٹس کی بجلی کی بحالی اور تزئین و آرائش کے سلسلے میں تین ہفتے لگے، جس کے بعد فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع ہو سکا۔ دوحہ سے کیو آر 410 پرواز دمشق پہنچی، جس میں مسافر تھے اور سرکاری عہدے داروں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے فوراً بعد، دمشق سے سیریئن ایئرلائن کی پرواز شارجہ کے لیے روانہ ہوئی۔