بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ اور جشن کا ماحول
شام میں بشار الاسد کے خاندان کے نصف صدی پر محیط اقتدار کے خاتمے کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ دمشق کی امیہ اسکوائر جشن کے لیے بھر گیا، جہاں گاڑیوں، جھنڈوں اور لوگوں کا ہجوم تھا۔ جشن کے دوران زبردست آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔تاریخی اموی مسجد میں ہزاروں شہریوں نے اجتماع کیا، اور کئی افراد نے تین ستاروں والا شامی آزادی کا پرچم بلند کیا، جو اسد کے دور میں لہرانا ممنوع تھا۔دیگر شہروں جیسے حمص، حما، اور ادلب میں بھی شامی عوام نے گلیوں اور چوکوں میں جشن منایا۔
اسلام پسند گروپ کا کردار
اسلام پسند گروپ حیات تحریر الشام (HTS) کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے عوام سے جشن میں شرکت کی اپیل کی تھی۔
بشار الاسد کا اقتدار ختم
بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ اتوار کے روز باغیوں کے حملے کے بعد ہوا، جنہوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔
ترکی اور خلیجی ممالک کے اقدامات
ترکی نے شام میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو 2012 سے بند تھا۔ اس وقت ترکی نے بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنے کا کہا تھا۔
ایک قطری سفارت کار کے مطابق، خلیجی ممالک کے وفد کی شام میں آمد متوقع ہے، جہاں وہ عبوری حکومت کے حکام سے ملاقات کریں گے اور امداد کی ترسیل بڑھانے پر بات کریں گے۔
نئے دور کی صبح
شامی عوام اس تبدیلی کو "نئے دور کی صبح" کے طور پر منا رہے ہیں، جو نصف صدی کی ظالمانہ حکمرانی کے خاتمے کا اعلان ہے۔