شام کی عبوری حکومت نے اپنے ملک میں بشار الاسد کے طویل حکومتی دور کا خاتمہ کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس میں 2012 کا آئین منسوخ کرنے، ایمرجنسی قوانین کو ختم کرنے اور نیا عبوری انتظام قائم کرنے کی تفصیلات شامل ہیں۔
شام کے ملٹری آپریشن کے ترجمان حسن عبدالغنی نے ایک پریس کانفرنس میں ان فیصلوں کا اعلان کیا، جن کے تحت 2012 کا آئین جو بشار الاسد کے اقتدار کے دوران نافذ کیا گیا تھا، اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں ایمرجنسی پروسیجر کے تحت نافذ کیے گئے دیگر قوانین کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ان اقدامات کا مقصد ملک میں ایک نئی سیاسی ترتیب قائم کرنا ہے، جو اسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سامنے آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں احمد الشرع (جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی معروف ہیں) کو شام کا نیا عبوری صدر مقرر کیا گیا ہے۔ ابو محمد الجولانی کی قیادت میں فوجی ترجمان کے مطابق ایک عارضی قانون ساز کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے، جو نئے آئین کی منظوری تک اپنا کام جاری رکھے گی۔
شام میں مختلف مسلح گروپوں کو تحلیل کرکے ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ ان مسلح گروپوں کو وزارت دفاع کے ماتحت کیا جائے گا، تاکہ فوجی اور سیکیورٹی اداروں کو طاقتور بنایا جا سکے۔ایک اور اہم فیصلہ یہ ہے کہ بعث پارٹی کو تحلیل کر دیا جائے گا، جو گزشتہ پانچ دہائیوں سے شام میں حکمرانی کر رہی تھی۔ شامی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں ایک نیا سیاسی ماحول قائم کیا جا سکے اور سابق حکومتی نظام کی باقیات کو ختم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اسد اور ان کے خاندان کو شام سے فرار ہونا پڑا۔ جب انہیں اپنے اقتدار کا تختہ الٹتے دیکھا گیا، تو انہوں نے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے خاندان کے ہمراہ روس کے لیے روانہ ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ اب بھی پناہ گزین ہیں۔ ان فیصلوں کے بعد شام میں نئی سیاسی حقیقت کی تشکیل کا عمل تیز ہو گیا ہے اور عبوری حکومت کی طرف سے اس بات کا عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ شام میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جانب قدم بڑھایا جائے گا۔