وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشت گردی کا سر نہیں کچلا جاتا، حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔
کابینہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور صوبوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ حالیہ خوارج کے حملے میں 17 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر فورسز نے 8 دہشت گردوں کو مارا۔ وزیرِ اعظم نے ان حملوں میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک کے نیوکلیئر پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، یہ پروگرام پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا ہے اور دفاع کے لیے ہے، نہ کہ جارحیت کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر لگائی جانے والی پابندیاں غیر ضروری اور غیر جواز ہیں۔
مزید برآں، وزیرِ اعظم نے پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی حالیہ کمیٹی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کی خاطر ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر یکجہتی کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے ملک کے معاشی استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے بعد مہنگائی سب سے کم سطح پر ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔شہباز شریف نے بنگلا دیش سے تجارتی تعلقات میں بہتری پر بھی بات کی اور بتایا کہ چاول کی ایکسپورٹ کے ذریعے پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔