نیپال میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بشمول فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، کو مقامی قوانین کے تحت رجسٹریشن کی ناکامی پر عارضی طور پر بند کر دیا۔ اس اقدام کو سنسرشپ کے طور پر دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی قیادت میں "جن زیڈ" نامی احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔پولیس کی فائرنگ سے 19 مظاہرین کی ہلاکت اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم اولی کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ کی عمارت اور دیگر حکومتی رہنماؤں کے گھروں کو نذر آتش کیا۔ کٹھمنڈو میں کرفیو نافذ کرنے کے باوجود احتجاج جاری رہا، جس کے نتیجے میں وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے استعفیٰ دے دیا۔
وزیراعظم اولی نے 9 ستمبر 2025 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بحران کے آئینی حل کے لیے راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، جبکہ حکومت نے متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور زخمیوں کا مفت علاج فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔