اسپین: ہزار سال پرانی خانقاہ کو جنگلات کی آگ سے بچانے کیلئے بادشاہوں کی باقیات منتقل

اسپین: ہزار سال پرانی خانقاہ کو جنگلات کی آگ سے بچانے کیلئے بادشاہوں کی باقیات منتقل

اسپین کے شمال مشرقی خطے اراگون میں بھڑکنے والی شدید جنگلاتی آگ نے تاریخی ورثے کو بھی خطرے میں ڈال دیا، جس کے باعث حکام نے تقریباً ایک ہزار سال قدیم سان خوان دے لا پینا خانقاہ میں موجود انتہائی اہم تاریخی نوادرات اور قرونِ وسطیٰ کے بادشاہوں کی باقیات کو ہنگامی طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

یہ جنگلاتی آگ 10 اگست 2026 کو صوبہ ہویسکا کے علاقے لاس پینیاس دے ریگلوس میں شروع ہوئی اور تیز ہواؤں، بلند درجہ حرارت اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث تیزی سے پھیلتی گئی۔ چند ہی روز میں آگ تاریخی خانقاہوں سان خوان دے لا پینا کے قریب پہنچ گئی، جس سے حکام کو خدشہ پیدا ہوگیا کہ صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ شعلوں کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے بادشاہوں کی باقیات محفوظ مقام پر منتقل
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اسپین کی یونٹ آف ملٹری ایمرجنسیز (UME)، قدرتی ورثے کے اہلکاروں اور اراگون حکومت کے ثقافتی ورثے کے ماہرین نے خانقاہ میں ہنگامی کارروائی کی۔کارروائی کے دوران اراگون کے ابتدائی تین بادشاہوں کی باقیات سمیت شاہی خاندان سے متعلق ہڈیاں اور کھوپڑیاں نکال کر ہویسکا کے میوزیم منتقل کی گئیں۔ یہ باقیات خانقاہ کے شاہی مقبرے میں محفوظ تھیں اور اراگون کی قرونِ وسطیٰ کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔جاری کی گئی ویڈیو میں اہلکاروں کو شفاف ڈبوں میں محفوظ انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں خانقاہ سے باہر منتقل کرتے دیکھا گیا۔ تاریخی باقیات کے علاوہ قیمتی فن پارے، آثارِ قدیمہ اور دیگر اہم اشیا بھی محفوظ کی گئیں۔حکام کو بعض مقامات تک پہنچنے کے لیے خانقاہ کا دروازہ توڑنا پڑا، کیونکہ آگ تیزی سے عمارت کے قریب پہنچ رہی تھی۔ صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی تھی کہ اہلکاروں کو کچھ دیر کے لیے عمارت سے نکلنا بھی پڑا۔

ہزار سال پرانی خانقاہ کیوں اہم ہے؟
سان خوان دے لا پینا خانقاہ کی تاریخ دسویں صدی تک جاتی ہے اور اسے اراگون کی ریاست کی ابتدائی تاریخ سے گہرا تعلق رکھنے والے اہم ترین تاریخی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ مقام اراگون کی شاہی تاریخ کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ قدیم خانقاہ کو سینٹ جیمز کی مشہور زیارتی راہ کے قریب واقع ہونے کے باعث ہر سال تقریباً ایک لاکھ سیاح بھی دیکھنے آتے ہیں۔خانقاہ کے نگران مذہبی ادارے سے وابستہ فیلکس لونگاس نے اس تاریخی مقام کو خطے کی جڑوں اور تاریخ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی علامتی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

10 ہزار سے زائد ہیکٹر رقبہ متاثر
آگ نے ابتدائی مرحلے میں ہی 10 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے کو متاثر کیا، جبکہ مختلف دیہات اور آبادیوں سے تقریباً 850 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 500 اہلکار مسلسل کارروائیوں میں مصروف رہے۔بعد میں سیٹلائٹ پیمائش کے مطابق آگ سے متاثرہ رقبہ بڑھ کر تقریباً 14,500 ہیکٹر تک پہنچ گیا، جبکہ آگ کے مجموعی دائرے نے تقریباً 18,400 ہیکٹر علاقے کو متاثر کیا۔ 20 اگست کو حکام نے آگ کو مستحکم قرار دیا، تاہم علاقے میں نگرانی اور حفاظتی کارروائیاں جاری رہیں۔

تاریخی ورثہ محفوظ، خانقاہ بھی بچ گئی
شدید خطرے کے باوجود فائر فائٹرز اور ہنگامی اداروں کی کوششوں سے دونوں تاریخی خانقاہیں بڑے نقصان سے محفوظ رہیں۔ بعد میں سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ سان خوان دے لا پینا کی قدیم اور نئی خانقاہیں آگ سے محفوظ رہیں اور انہیں نمایاں نقصان نہیں پہنچا۔حکام کے مطابق ہنگامی کارروائی کا مقصد صرف عمارت کو بچانا نہیں تھا بلکہ ان تاریخی اشیا کو بھی محفوظ کرنا تھا جن کا نقصان اسپین کے ثقافتی ورثے کے لیے ناقابلِ تلافی ہوسکتا تھا۔ اسی لیے بادشاہوں کی باقیات، تاریخی لباس، پینٹنگز اور دیگر قیمتی اشیا کو بروقت میوزیم منتقل کیا گیا۔یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ یورپ میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی اور جنگلات کی آگ نہ صرف انسانی آبادیوں اور قدرتی ماحول بلکہ صدیوں پرانے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔