کولمبیا کے وسطی علاقے بوگوٹا آلٹیپلانَو (Bogotá Altiplano) میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک اہم اور حیران کن دریافت کی ہے۔
یہاں سے ملنے والے 6 ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچوں کا جب جینیاتی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان افراد کا ڈی این اے موجودہ یا کسی معروف قدیم انسانی نسل سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ڈی این اے کی منفرد نوعیت:
یہ انکشاف بین الاقوامی تحقیقی جریدے "سائنس ایڈوانسز" (Science Advances) میں 30 مئی 2025 کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق میں 21 قدیم انسانوں کے جینیاتی نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ:یہ افراد نہ تو کسی موجودہ انسانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں.نہ ہی ان کا ڈی این اے کسی ماضی کی معروف نسل سے میل کھاتا ہے.یہ ایک منفرد اور مکمل طور پر معدوم ہو جانے والی انسانی نسل تھی
ماہرین کی رائے:
تحقیقی ٹیم کی رکن آندریا کاساس وارگاس کا کہنا ہے:"ہمیں واقعی حیرت ہوئی کہ ان انسانوں کا جینیاتی مواد کسی بھی موجودہ یا ماضی کی آبادی سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ کولمبیا میں قدیم ڈی این اے پر کی جانے والی پہلی جامع تحقیق ہے۔"وارگاس نے مزید کہا کہ:"کولمبیا چونکہ جنوبی امریکا میں داخلے کا مرکزی دروازہ تھا، اس لیے یہاں کی دریافتیں انسانی نقل مکانی کی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔"
کولمبیا: نئی انسانی تاریخ کا مرکز؟
یہ دریافت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ:
جنوبی امریکا میں کبھی ایک مکمل طور پر الگ انسانی نسل آباد تھی
جو کسی وجہ سے مکمل طور پر ختم ہو گئی — ممکنہ وجوہات میں قدرتی آفات، موسمی تبدیلیاں، یا بیماریوں کو قرار دیا جا رہا ہے
ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹینا وارینر کے مطابق:
"کولمبیا کی سرزمین، جو اب تک قدیم انسانی ڈی این اے کی تحقیق میں خاموش رہی، اب ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ وسطی امریکا نے شمالی اور جنوبی امریکی تہذیبوں کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔"
اگلے مراحل:
تحقیقی ٹیم اب کولمبیا کے دیگر علاقوں میں کھدائی کرے گی تاکہ:معلوم ہو سکے کہ اس نسل کی موجودگی کا جغرافیائی دائرہ کتنا وسیع تھا.اور آیا ان کے کوئی ممکنہ وارث آج بھی کہیں موجود ہیں؟
ابھرتے ہوئے سوالات:
یہ منفرد نسل کہاں سے آئی؟
یہ نسل کیسے اور کیوں ختم ہو گئی؟
کیا یہ دریافت انسانی ارتقاء کے بارے میں ہماری موجودہ فہم کو چیلنج کرتی ہے؟