اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے نجی ہسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کی اجازت سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پیراوائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے ہیں۔جسٹس محمد آصف کی سربراہی میں ہونے والی اس سماعت میں، محمد اسماعیل خان کے وکیل نے بتایا کہ ان کا موکل ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران اسے 10 بار ہسپتال لے جایا گیا ہے، مگر حالت بہتر نہیں ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا مکمل علاج پاکستان کے شفا ہسپتال میں ہی ممکن ہے اور سرکاری ہسپتال میں علاج نہ ہونے کی صورت میں اسے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔اوائس الطاف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو بخار اور دل کا مرض لاحق ہے، اور مناسب علاج معالجہ اس کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بھی اوئیس الطاف کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی۔محمد اسماعیل خان کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ ان کا موکل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے اور اس کا ایک بھائی دبئی میں ہے، جس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ جیل حکام کو واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کرانے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے تینوں مقدمات میں جیل حکام سے پیراوائز کمنٹس طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔