امن مشن فیلڈ مارشل آج تہران جائیں گے دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے:ایرانی صدر
جنگ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کرنا بہتر ہوگا، ایران اس غیر مساوی جنگ کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے اور عوام کی خدمت کی کوشش کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے:مسعود پیزشکیان
تہران: (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر آج پیر کو تہران کا دورہ کریں گے، دورے کے دوران اہم ملاقاتیں ہوں گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا فیلڈمارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے، دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کو درپیش موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت معاشی، فوجی اور سکیورٹی محاذ پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔لیکن ہم کسی صورت دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ٹیلی ویڑن خطاب میں پیزشکیان نے کہا کہ ’ہم مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ میں ہیں‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کی معیشت میں موجود نمایاں مسائل پر حکومت کو شرمندگی ہے۔ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی اور سخت پابندیوں کی دھمکیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ آسانی سے یہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران پر ’سب سے تباہ کن‘ یا ’بدترین‘ پابندیاں عائد کرے گا۔پیزشکیان نے کہا کہ ایران اس غیر مساوی جنگ کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے اور عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بیان میں معاشی مشکلات اور جنگ کے اثرات پر خاص توجہ دکھائی دی۔حالیہ دنوں میں ایران پر امریکی معاشی دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور جنگ کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔دوسری جانب پیزشکیان نے حالیہ دنوں میں جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کرنا بہتر ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے