فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں پر تبادلہ خیال‘ علاقائی ممالک کے درمیان رابطے و تعاون بڑھانے کی ضرورت پراتفاق

سعودی ولی عہد کا امریکی صدر سے2بار رابطہ ٹرمپ کا حوثیوں کیخلاف کارروائی سے انکار باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا: انصار اللہ تنظیم کا دعویٰ
 امریکہ حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی کرنے والا ڈیٹا سعودی عرب کو فراہم کرے گا‘  200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں جو  غیر فوجی معاونت فراہم کر رہے ہیں:امریکی عہدیدار
 حوثیوں کا مغربی صوبے تعز میں اہم علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد ‘جبل النصر ‘ المخا ائیرپورٹ پر قبضہ  ساحلی علاقے المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئے‘ مزاحمت کرنیوالوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیئے:امریکی میڈیا
واشنگٹن‘اسلام آباد‘تہران(آئی این پی )امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے  حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کو مسترد کردیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعوی کیا ہے  بحیرہ احمر میں حوثیوں سیلاحق خطرے پر سعودی ولی عہد نے گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ سے دو بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ٹرمپ پر زور دیا  وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کریں تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار کردیا۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی عسکری اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہم منصبوں سے رابطہ کیا جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی رابطہ اجلاسوں کے لیے گزشتہ روز سعودی عرب گئے۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔دریں اثناء  امریکہ نے حوثیوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات سعودیہ کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا امریکہ  حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی کرنے والا ڈیٹا سعودی عرب کو فراہم کرے گا۔امریکی عہدیدار کے مطابق تقریبا 200 امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں جو سعودی عرب کو غیر فوجی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔عہدیدار کے مطابق امریکی انتظامیہ کا فی الحال حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں جبکہ  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور  کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے، خطے کی تازہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی حکومت کے سوشل میڈیا اکائونٹ ایکس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنمائوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات اور ان کے علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔برطانوی خبررساںادارے   کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ دونوں رہنمائوں نے تہران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کو کم کرنے اور سفارتی کوششوں کی بحالی کے طریقوں پر بھی گفتگو کی۔دونوں جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی صورتحال پر اپنے موقف کا تبادلہ کیا گیا۔ ملاقات کے دوران کشیدگی میں اضافے کے علاقائی امن اور استحکام پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔دونوں فریقوں نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں علاقائی ممالک کے درمیان چوکس رہنے اور باہمی رابطے و تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا‘علاوہ ازیں یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سینیئر اہلکار محمد البخیتی نے دعویٰ کیا ہے حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حوثیوں نے مغربی صوبے تعز میں کلیدی اہمیت کے حامل علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر قبضہ کرلیا ہے اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے المخا ائیرپورٹ پرقبضہ کرلیا گیا ہے جبکہ مزاحمت کرنیوالوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے ہیں۔