مولانا سے باتیں قبر میں ساتھ جائیں گی:شہبازشریف اجازت دیتا ہوں ایوان کو بتادیں:مولانا فضل الرحمن
مولانا فضل الرحمن کا شکریہ لیکن آفر اس لئے قبول نہیں کروں گا اگر وہ باتیں بتا دیں تو پھر بات دور تک چلی جائے گی اور معاملات اتنے دور چلے جائیں گے واپس نہیں آئیں گے:وزیراعظم کا مکالمہ
شہباز شریف سے گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان کا ٹیلیفونک رابطہ، امن کوششوں پر مبارکباد‘پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر سعودی عرب کا خراجِ تحسین، وزیراعظم نے گورنر تبوک کو دور ہ پاکستان کی دعوت دے دی
اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے وزیراعظم شہباز شریف جب ایوان میں پہنچے تو انہوں نے اپوزیشن ارکان سے مصافحہ کیا۔شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے بھی مصافحہ کیا۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان خوشگوار اور شکوہ جواب شکوہ کے انداز میں دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ (مولانا فضل الرحمان) کے ساتھ احترام کارشتہ ہے، آپ ہمیشہ شفقت سے پیش آئے ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ مولانافضل الرحمان کے ساتھ جو بھی باتیں تنہائی میں ہوئیں، وہ راز ہیں اور وہ قیامت تک کسی سے ڈسکس نہیں کروں گا۔ وہ باتیں قبر میں میرے ساتھ جائیں گی۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے جوابا ًکہا کہ وزیراعظم نے جو محبت کا اظہار کیا، میں اس کو ویلکم کرتا ہوں اور اس کے ساتھ انہیں اجازت دیتا ہوں کہ راز کی باتیں ایوان میں سب کے سامنے بتا دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مولانا صاحب کا شکریہ لیکن آفر اس لیے قبول نہیں کروں گا کہ اگر وہ باتیں کیں تو پھر بات دور تک چلی جائے گی اور معاملات اتنے دور چلے جائیں گے کہ واپس نہیں آئیں گے‘وزیر اعظم نے لطیف کھوسہ اور نور عالم خان سے بھی مصافحہ کیا۔بلاول بھٹو اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم شہباز شریف سے ملنے گئے، وزیر اعظم اور بلاول بھٹو نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، امن کوششوں اور امریکہ۔ایران مذاکراتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو نہایت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔وزیراعظم شہباز شریف کو امیرِ قطر کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ امیرِ قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کی قیادت کو سراہا اور پاکستان کی امن کوششوں کے لیے قطر کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کا امن کی کوششوں میں مسلسل اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفارتی کامیابی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں اور قطر سمیت برادر ممالک کے اہم کردار کی بدولت ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس عمل کو خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔دونوں رہنماؤں نے سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات کے پہلے دور پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے یا سبوتاڑ کرنے کی کسی بھی کوشش سے محفوظ رکھنا ضروری ہے‘علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کا ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان نہایت گرمجوشی، خیرسگالی اور باہمی تعاون کے جذبے پر مبنی گفتگو ہوئی۔ ٹیلیفونک رابطے کے دوران گورنر تبوک نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حصول میں پاکستان کی غیرمعمولی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔گفتگو کے دوران شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین بتایا۔وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر تبوک کی جانب سے نیک تمناؤں اور مبارکباد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امن کوششوں کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا ہے۔