وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارت کو سخت انتباہ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو بھارتی شہری بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
بھارت دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرگرم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور افغانستان سے آنے والے دہشتگرد گروہوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروہوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے اور بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے دہشتگردوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔
کلبھوشن یادیو سب سے بڑی گواہی
وزیر دفاع نے بھارت کی مداخلت کے ثبوت کے طور پر کلبھوشن یادیو کی مثال دی، جو پاکستان کی حراست میں ہے اور بھارتی جاسوس ہونے کا اعتراف کر چکا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن زندہ گواہی ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے جیسے گروہ بھارت کے ساتھ اپنے روابط کھلے عام تسلیم کرتے ہیں۔
بھارتی ایئر اسپیس کی خلاف ورزی اور پاکستان کا جواب
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کا بھرپور دفاع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کم شدت کی مسلسل لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن پاکستان ہر محاذ پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اگر جنگ یا مہم جوئی کی کوئی کوشش کی گئی تو پاکستان مؤثر اور منہ توڑ جواب دے گا۔
بھارت کی ہندوتوا پالیسی اور عالمی خطرہ
وزیر دفاع نے نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک سرٹیفائڈ دہشتگرد حکمران ہے جو ہندوتوا کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک جیسے کینیڈا اور امریکہ میں بھی دہشتگردی برآمد کی ہے، جس پر کینیڈا نے باقاعدہ احتجاج بھی کیا۔
پاکستانی عوام اور افواج کا عزم
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی افواج اور عوام اپنی سرزمین کے ذرے ذرے کا دفاع کریں گے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی دباؤ میں نہیں آئے گا اور اگر پروپیگنڈے نے کوئی اور شکل اختیار کی تو بھارت کو پتہ لگ جائے گا کہ پاکستان کیسے جواب دیتا ہے۔