لانگ مارچ میں ٹی ٹی پی سے مل کر بدامنی کا منصوبہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

لانگ مارچ میں ٹی ٹی پی سے مل کر بدامنی کا منصوبہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی قیادت کی حمایت سے 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کے ساتھ مل کر صوبے اور ملک میں بدامنی و تشدد پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ لانگ مارچ کے دوران مظاہروں اور جلسے جلوسوں کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات اور چوکیوں کے قریب افراتفری پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کو مبینہ طور پر خیبرپختونخوا تک محدود رکھا جائے گا۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کی مدد سے بعض افراد کو ’’بنوں اسٹائل‘‘ حملوں کے لیے تیار کیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔خواجہ آصف نے 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق بنوں کینٹ پر خودکش حملے میں ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ کا کردار تھا، جس کے نتیجے میں 8 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ان کے مطابق چار روز بعد 19 جولائی کو بنوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں فرق ہے۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے، تاہم ٹی ٹی پی کے ساتھ مبینہ تعاون کے ذریعے مسلح کارروائی کی کوشش کو ریاست کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور ایسی صورت میں ریاست اپنے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گی۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو پشاور سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے۔