اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے تمام بھارتی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جبکہ واہگہ بارڈر کو بھی فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سارک ویزا پر پاکستان میں موجود تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔یہ فیصلہ آج اسلام آباد میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِاعظم نے کی۔ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، مشیر قومی سلامتی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
بھارت کے "بلا اشتعال اقدامات" کا سخت ردعمل
اجلاس میں بھارت کی بی جے پی حکومت کے حالیہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جنہیں پاکستان نے "بلا جواز اور اشتعال انگیز" قرار دیا۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ شب اچانک واہگہ بارڈر بند کر دیا اور بھارت میں موجود سارک ویزا رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے۔اس صورتحال کے جواب میں پاکستان نے سارک ویزا پر موجود بھارتی شہریوں کے ویزے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں اور انہیں ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ امیگریشن حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔
ایوی ایشن اور بارڈر کنٹرول پر سختی
پاکستان کی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ فوری طور پر نافذالعمل ہو گیا ہے۔ اس کا اطلاق نہ صرف تمام بھارتی ایئرلائنز پر ہو گا بلکہ بھارتی آپریٹڈ بین الاقوامی ایئرلائنز بھی اس سے متاثر ہوں گی۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی کئی پروازوں کو متبادل راستے تلاش کرنے پڑے ہیں جس سے ہوابازی کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عالمی برداری کو آگاہ کرنے کا فیصلہ
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ان اقدامات سے متعلق اقوام متحدہ، سارک ممالک، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ پاکستان کی پالیسی ہے کہ علاقائی امن اور استحکام کو ترجیح دی جائے، تاہم بھارت کے اشتعال انگیز رویے کے خلاف مناسب دفاعی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
سیاسی و سفارتی ردعمل
وزیر خارجہ اور وزیر اطلاعات کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے ہمیشہ بات چیت اور سفارتکاری کو ترجیح دی ہے مگر جارحیت کی صورت میں جواب دینا بھی جانتا ہے۔