ویب ڈیسک : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 31 واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت کے جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے بھارتی بیانات اور الزامات کو "افسوسناک، اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت" قرار دیا۔ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ:"مودی سرکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے عوام ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان کے مطابق، بھارتی حکومت اپنی اندرونی ناکامیوں اور سیکیورٹی خلا کو چھپانے کے لیے پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ:
پہلگام واقعہ بھارتی سیکیورٹی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی یہ روایت نئی نہیں ہے، لیکن اس بار بھی اسے ناکامی کا سامنا ہوگا۔
اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی کوشش کی تو اسے "بھاری قیمت چکانی پڑے گی"۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، لیکن اگر قومی سلامتی، خودمختاری اور خطے کے امن کو چیلنج کیا گیا تو پوری قوم متحد ہو کر اس کا دفاع کرے گی۔علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ:"ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لیے ہم سب متحد ہیں اور ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔ بھارتی حکومت کا رویہ ہمیشہ سے خطے کے امن کے لیے خطرہ رہا ہے، اور یہ صورتحال اب مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔"