بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو پہلگام واقعے اور پاک بھارت کشیدگی پر غیر ملکی صحافی کے سخت سوالات کا سامنا
اسلام آباد: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر ایک حالیہ انٹرویو میں غیر ملکی صحافی کے سوالات کے سامنے گھبرا گئے، جنہوں نے پاک بھارت کشیدگی اور خاص طور پر پہلگام واقعے میں امریکہ کے کردار پر وضاحت طلب کی۔ صحافی کے براہِ راست اور چیلنجنگ سوالات نے وزیر خارجہ کو الجھاؤ میں ڈال دیا اور وہ واضح جواب دینے کے بجائے گول مول باتوں میں الجھتے نظر آئے۔انٹرویو میں صحافی نے سب سے پہلے پوچھا کہ کیا حالیہ کشیدگی کا خاتمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کا نتیجہ ہے، جس پر جے شنکر نے کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں صحافی نے پوچھا کہ کیا پہلگام واقعے میں ملوث 26 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور امریکہ کا اس حوالے سے کوئی کردار تھا؟ اس سوال نے وزیر خارجہ کو مزید بے اختیار کر دیا، اور ان کے بیانات غیر مربوط اور ہچکچاتے ہوئے سننے میں آئے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے وزیر خارجہ پر طنز کیا کہ ’’وزیر خارجہ کی زبان کیوں لڑکھڑا رہی تھی؟ کیا وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے؟‘‘دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر رضامند ہو چکے ہیں، تاہم بھارت اس مداخلت کو تسلیم بھی کرتا ہے اور رد بھی کرتا ہے، جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔یہ انٹرویو اس کشیدہ صورتحال میں بھارت کے دفاعی موقف اور امریکی کردار کے حوالے سے سوالات کو اجاگر کرتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں عدم وضاحت کو ظاہر کرتا ہے۔