اسلام آباد (ویب ڈیسک): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس کے دوران خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے دہشتگرد حملے کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی پراکسیز ہوش کے ناخن لیں، کیونکہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور مربوط لائحہ عمل چاہتا ہے۔سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ "خضدار کا واقعہ قابلِ مذمت اور انتہائی افسوسناک ہے، معصوم بچیوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ فعل ہے"۔
دہشتگردوں کو ماضی میں خود بسایا، اب مکمل خاتمے کا وقت ہے
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وہ الزام تراشی کی سیاست سے اجتناب برتتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں دہشتگردوں کو پاکستان میں لا کر بسایا گیا۔ انہوں نے کہا:"ہم نے خود بارڈرز کھولے، چالیس ہزار افراد کو اندر آنے دیا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور پورے خطے سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے"۔انہوں نے بھارت پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرزمین اور فضائی حدود میں حالیہ واقعات ان کے لیے سبق ہونے چاہئیں۔
دہشتگردی کا معاملہ چین کے دورے میں بھی زیر بحث
وزیر خارجہ نے بتایا کہ حالیہ چین کے دورے میں بھی دہشتگردی کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ عالمی برادری دہشتگردی کے سنگین خطرے کو سمجھے اور اس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔
افریقہ دوستی کا دن منانے کا اعلان
اس موقع پر اسحاق ڈار نے سینیٹ میں "پاکستان-افریقہ فرینڈ شپ" سے متعلق قرارداد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ:پاکستان نے ہمیشہ افریقی ممالک کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کی۔پاکستانی امن دستے اقوام متحدہ کے مشن کے تحت روانڈا، گھانا، اور ایوری کوسٹ جیسے ممالک میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔پاکستان 25 مئی کو "افریقہ دوستی کا دن" منائے گا تاکہ افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف افریقی ریاستوں سے رابطے بڑھائے جائیں گے۔