زیلنسکی کا بھارت سے روسی تیل کی تجارت ختم کرنے کا مطالبہ

زیلنسکی کا بھارت سے روسی تیل کی تجارت ختم کرنے کا مطالبہ

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھارت سے روس کے ساتھ تیل کی تجارت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی معیشت کی جنگی سرگرمیوں میں توانائی کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

زیلنسکی نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور ایران پر پابندیوں سے متعلق قانون پر دستخط کیے جانے کے چند روز بعد ایک انٹرویو میں دیا۔ نئے قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل کے بڑے خریداروں سمیت بعض ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ روس اپنی معیشت کو مختلف بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ توانائی کی تجارت کے ذریعے سہارا دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت، چین اور ترکیہ جیسے ممالک روس کے ساتھ توانائی کی تجارت میں کمی یا اسے ختم کریں تو ماسکو پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔زیلنسکی نے خاص طور پر بھارت سے روسی تیل کی خریداری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی معیشت بھارت، چین اور ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی روابط پر انحصار کرتی ہے اور توانائی کی تجارت میں بڑی تبدیلی روس پر معاشی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روسی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد ترکیہ نے روس سے اپنی تیل کی درآمدات میں کمی کی ہے۔

 تاہم روس کے بڑے توانائی خریداروں کے ساتھ تجارتی تعلقات اور درآمدات میں مستقبل میں کس حد تک تبدیلی آتی ہے، یہ صورتحال پر منحصر ہوگا۔دوسری جانب روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت سمیت مختلف ممالک اپنے توانائی اور معاشی مفادات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ زیلنسکی کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی جنگی اخراجات پر اثرانداز ہوسکتی ہے، جبکہ روس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے لیے توانائی کی ضروریات اور معاشی مفادات اس معاملے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔