یوکرین کے یومِ آزادی پر قیدیوں کا تبادلہ، زیلنسکی کی روسی صدر سے مذاکرات کی اپیل

یوکرین کے یومِ آزادی پر قیدیوں کا تبادلہ، زیلنسکی کی روسی صدر سے مذاکرات کی اپیل

ویب ڈیسک: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ براہِ راست ملاقات ہی خطے میں امن قائم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

یوکرین کے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ "روس کو امن کی طرف دھکیلنے" کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس تقریب میں امریکی اور مغربی نمائندے بھی شریک ہوئے، جہاں زیلنسکی نے امریکی ایلچی کیتھ کیلوگ کو ’’آرڈر آف میرٹ‘‘ ایوارڈ بھی پیش کیا۔ادھر جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ یوکرین کی جانب سے روس کے مختلف شہروں پر ڈرون حملے کیے گئے، جن میں ایک ڈرون کورسک کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب گرایا گیا، جبکہ روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ سمیت کئی علاقوں میں یوکرینی ڈرونز مار گرائے گئے۔

دونوں ممالک نے اتوار کے روز ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے 146، 146 قیدیوں اور شہریوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا، جسے جاری تنازع کے دوران باہمی تعاون کا نادر موقع قرار دیا جا رہا ہے۔روسی فوج نے مشرقی ڈونیٹسک کے دو دیہات پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم یوکرینی کمانڈر اولیکساندر سیرسکی کا کہنا ہے کہ تین دیہات یوکرین نے دوبارہ حاصل کر لیے ہیں۔دریں اثنا کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کیف کے دورے کے دوران کہا کہ یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کا فیصلہ روس نہیں کرے گا بلکہ یہ حق صرف یوکرینی عوام کا ہے۔