واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے والے حملے روکنے پر زور دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ روس کی تیل تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صدر اس سے قبل بھی یوکرینی قیادت سے روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی ریفائنریوں اور دیگر توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی ایندھن کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا معاملہ حالیہ عرصے میں مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ روسی ریفائنریز اور توانائی تنصیبات پر یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث روس کی ایندھن پیداوار اور مقامی سپلائی پر اثرات کے خدشات سامنے آئے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں بھی توانائی کی قیمتوں پر اس صورتحال کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی ریفائننگ صلاحیت میں نمایاں خلل عالمی توانائی مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ تاہم تیل اور ڈیزل کی قیمتوں پر صرف روسی تنصیبات پر حملے ہی نہیں بلکہ عالمی طلب، پیداوار، شپنگ اخراجات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ادھر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات میں روس یوکرین جنگ، توانائی تنصیبات پر حملوں اور جنگ بندی سمیت مختلف امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کی توانائی اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔