روسی ڈرون حملے کا ریکارڈ، ایک ہی رات میں 728 ڈرونز؛ زیلنسکی کا جواب، ٹرمپ کی دھمکی، یورپی پابندیاں متوقع

روسی ڈرون حملے کا ریکارڈ، ایک ہی رات میں 728 ڈرونز؛ زیلنسکی کا جواب، ٹرمپ کی دھمکی، یورپی پابندیاں متوقع

روس نے یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا، جس میں ریکارڈ 728 ڈرونز ایک ہی رات میں استعمال کیے گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیف کو مزید دفاعی ہتھیار دینے کے وعدے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر براہِ راست تنقید کے بعد کیا گیا۔

یوکرین کا دفاعی ردعمل:
یوکرینی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تقریباً تمام ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا۔اس کامیابی میں الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز اور جدید فضائی دفاعی نظام کا اہم کردار رہا۔یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملہ روس کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کا تسلسل ہے۔
زیلنسکی کا سخت مؤقف:
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ روس کی جنگی فنڈنگ کے بڑے ذرائع، خاص طور پر روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر فوری اور سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔انہوں نے امریکا سے جدید فضائی دفاعی نظام اور اسلحے کی فوری ترسیل کے لیے اپنے حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکا کا ردعمل:
ڈونلڈ ٹرمپ، جو دوبارہ صدارتی انتخابات میں سرگرم ہیں، نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک ایسے قانون کی حمایت کریں گے جس کے تحت روسی برآمدات پر 500 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔اس میں روسی تیل، گیس اور یورینیم جیسی کلیدی برآمدات شامل ہیں۔ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو "خوش اخلاق مگر بے معنی" قرار دیتے ہوئے کہا:"ہم کچھ سرپرائز رکھنا چاہتے ہیں۔"
یورپی یونین کا لائحہ عمل:
یورپی یونین بھی روس کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں پر غور کر رہا ہے، جس میں مالیاتی، توانائی اور تکنیکی شعبے شامل ہوں گے۔
جنگ بندی کا تنازع:
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ممکنہ صدارت کے دوران یوکرین جنگ کو فوری ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔روس نے اب تک ٹرمپ کی غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز کو قبول نہیں کیا، البتہ یوکرین اس تجویز پر آمادہ ہو چکا ہے۔