بھارت: گاؤں میں آزادی کے 78 سال بعد پہلی بار بجلی کی فراہمی پر جشن

لاہور(نیٹ نیوز )خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تیزی سے ترقی کرنے والا ملک کہنے والے بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ایک گاوں سے حال ہی میں ایک کہانی سامنے آئی جو حیرت انگیز طور پر اس کے ترقی کے تمام دعووں کے بالکل برعکس ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر ایک چھوٹے گاؤں کو آزادی کے 78 سال بعد اب پہلی بار بجلی فراہم کی گئی۔ضلع تھانے کے علاقے پہاڑی شاہ پور تعلقہ کے گاؤں وراسواڑی کو آخر کار اب بجلی مل گئی، اس گاو ں کے رہائشیوں کے لیے سوئچ آن کرنا کسی بڑی تبدیلی سے کم نہیں تھا کیونکہ بجلی کے ایک بلب کی چمک نے ان کی زندگیوں میں چھائے برسوں کے اندھیرے کو دور کر دیا تھا۔مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق گاو ں کے 15 گھروں کو بجلی فراہم کی گئی ہے، بجلی کی فراہمی کو اسٹریٹ لائٹس تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔حکام نے انکشاف کیا کہ گاو ں میں بجلی کے لیے 67 کھمبوں کی تنصیب کے ساتھ ساتھ 63 کے وی اے کے نئے ٹرانسفارمر کی ضرورت تھی۔حکام نے بتایا کہ گرڈ سے مستقل کنکشن کو یقینی بنانے کے لیے اس پروجیکٹ پر 50 لاکھ بھارتی روپے سے زائد لاگت آئی۔حکام نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کی منظوری 2 سال قبل دی گئی تھی لیکن اس گاؤں میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے کھمبے اور ٹرانسفارمر لے جانا انتہائی مشکل مرحلہ تھا اور اس کے علاوہ جنگلاتی علاقے میں ہونے کی وجہ سے متعدد محکموں، خصوصاً محکمہ جنگلات سے اجازت لینا ضروری تھا۔ جب گاؤں والوں کے گھروں میں پہلی بار روشنی ہوئی تو اس تاریخی موقع پر اْنہوں نے آتشبازی کی اور نعروں کے ساتھ جشن منایا۔