پنجاب کے سیکرٹری داخلہ کے مطابق، صوبے میں اب تک 10 ہزار سے زائد شہریوں نے خود کو سول ڈیفنس کے رضاکاروں کے طور پر رجسٹر کروایا ہے تاکہ وہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کر سکیں۔
ان رضاکاروں میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بھرپور جذبے کے ساتھ حصہ لیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے پرعزم ہیں۔سیکرٹری داخلہ نے مزید بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام دن رات جاری ہے۔ متعلقہ ادارے لوگوں کو نہ صرف محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں بلکہ ان کے مال مویشیوں کو بھی ساتھ لے جایا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو معاشی نقصان سے بچایا جا سکے۔ اب تک لاکھوں افراد اور ان کے مال مویشیوں کو کامیابی کے ساتھ محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق یہ رضاکار صرف موجودہ بحران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں مستقبل میں بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال یا قدرتی آفات کے وقت فوری امداد کے لیے تیار رکھا جائے گا۔ سول ڈیفنس کے یہ تربیت یافتہ رضاکار ریسکیو آپریشنز، ریلیف کی فراہمی اور متاثرین کی بحالی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ پنجاب حکومت قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور عوام کو بھی اس مشن میں شریک کر کے اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔