ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر رضا طلائی نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایرانی قوم کے مطالبات اور ایران کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے مؤقف کو قبول نہ کیا تو اسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا موجودہ طرزِ عمل، اسرائیل کے ساتھ قریبی صف بندی اور “غرور پر مبنی پالیسی” امریکا کو مزید پیچیدہ تنازعات میں دھکیل سکتی ہے۔ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جنگی صورتحال کو جاری رکھنا امریکا اور عالمی معیشت دونوں کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے گا، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی قیادت کو ایران کی پیشکش اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی انتہائی حساس سطح پر پہنچ چکی ہے اور خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔