روس اور یوکرین نے امریکا کے زیر اہتمام ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اہم معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے بحیرہ اسود میں محفوظ بحری آمدورفت کی ضمانت دینے اور ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت 30 دنوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات اٹھانا ہے۔امریکا نے اس معاہدے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے روس کی عالمی منڈیوں تک زرعی اور کھاد کی برآمدات کے لیے رسائی کو بحال کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے یوکرین کے زرعی اور کھاد کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے مدد فراہم کی ہے تاکہ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی میں کمی نہ ہو۔
امریکی صدر نے اس معاہدے کو یوکرین کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ روس نے یوکرین کی توانائی کے انفراسٹرکچر پر مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی سہولت فراہم کرتا رہے گا۔یہ معاہدہ یوکرین کی جنگ کے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی فضا کو فروغ دیا گیا ہے۔