روس اور یوکرین میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ شدید حملے، کیف اور روسی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

روس اور یوکرین میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ شدید حملے، کیف اور روسی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات

روس اور یوکرین کے درمیان مختصر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تین روزہ عارضی جنگ بندی کے اختتام پر روس اور یوکرین دونوں نے ایک دوسرے پر حملوں کا آغاز کیا۔ روسی ڈرون حملوں کے باعث یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت متعدد علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے۔ مشرقی علاقے دنیپروپیٹروسک میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔یوکرینی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق روسی ڈرونز کیف کی فضاؤں میں داخل ہوئے، جس کے بعد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔ یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز کو مار گرایا۔دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ان کے فضائی دفاعی نظام نے 27 یوکرینی ڈرون تباہ کیے، جو بیلگوروڈ، وورونژ اور روستوف جیسے علاقوں میں نشانہ بنائے گئے تھے۔یہ جنگ بندی امریکی صدر کے اعلان پر ہوئی تھی، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے تین روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ یہ قدم طویل جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہو سکتا ہے۔

 تاہم دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے دوران بھی ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات لگائے۔یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ مکمل خاموشی جنگ بندی کے دوران بھی نہیں دیکھی گئی، جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر ابھی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ جنگ اپنے اختتامی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم روسی مؤقف ہے کہ فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک یوکرین اس کی شرائط تسلیم نہیں کرتا، جن میں مشرقی ڈونباس کے کچھ علاقوں سے دستبرداری بھی شامل ہے—جسے یوکرین مسترد کر چکا ہے۔مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عارضی جنگ بندی کے باوجود جنگ کے خاتمے کے امکانات ابھی بھی غیر یقینی ہیں۔