مودی حکومت پر تنقید، 4 ماہ میں 13 مسلمانوں کے قتل کے دعوے رپورٹ میں سامنے آئے

مودی حکومت پر تنقید، 4 ماہ میں 13 مسلمانوں کے قتل کے دعوے رپورٹ میں سامنے آئے

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار اور دعوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انڈیا پراسیکیوشن ٹریکر اور ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بھارت کی آٹھ ریاستوں میں مبینہ طور پر ہجومی تشدد اور دیگر پرتشدد واقعات میں 13 مسلمان افراد ہلاک ہوئے۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض کیسز میں اموات کی وجوہات جعلی پولیس مقابلوں، دورانِ حراست ہلاکتوں اور سیکیورٹی کارروائیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں، جن میں مزید 4 اموات کو ریاستی کارروائیوں سے جوڑا گیا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں بعض علاقوں میں مسلمانوں کو بے دخلی، جبری نقل مکانی اور بنیادی شہری حقوق میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مذہبی سرگرمیوں کے دوران گرفتاریوں کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں انتخابی فہرستوں سے ووٹرز کے اخراج سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ریاستوں میں بڑی تعداد میں افراد کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے۔تاہم بھارتی حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے ان تمام الزامات کی آزادانہ تصدیق یا تفصیلی ردعمل اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔