ویب ڈیسک: بھارت میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر (جنگ بندی) کرانے کے دعوے پر مودی کی خاموشی شرمناک اور قابلِ تشویش ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اور مودی کی خاموشی
راہول گاندھی نے کہا کہ:"وزیراعظم آخر کیا کہیں گے؟ ٹرمپ نے خود دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی۔ یہ پوری دنیا جانتی ہے، اور یہ حقیقت چھپ نہیں سکتی۔"ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی طرف سے اس پر ایک لفظ کا بھی جواب نہ دینا بھارتی عوام کے لیے مایوس کن ہے۔
صرف جنگ بندی کا مسئلہ نہیں
راہول گاندھی نے زور دے کر کہا کہ معاملہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں، بلکہ کئی اہم قومی سلامتی کے معاملات جیسے کہ:
دفاعی پیداوار
دفاعی حکمتِ عملی
آپریشن سندور
جیسے امور پر بھی حکومت کی خاموشی قابلِ مذمت ہے۔
ٹرمپ کی 25 بار سیز فائر کا دعویٰ
راہول گاندھی نے کہا:"ٹرمپ نے تقریباً 25 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیز فائر کرایا، جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے ایک مرتبہ بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اگر ٹرمپ سچ بول رہے ہیں تو یہ قومی خودمختاری کا سوال ہے، اور اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو مودی کو عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔"
'دیش بھگت' بھاگ گئے
راہول نے طنزیہ انداز میں کہا:"جو لوگ خود کو 'دیش بھگت' (محب وطن) کہتے ہیں، وہ اس موقع پر چھپ گئے ہیں۔ یہ رویہ قابل قبول نہیں۔"
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں متعدد بار کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ان کا کردار رہا ہے، حتیٰ کہ وہ ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔ مودی حکومت نے ہمیشہ ایسے بیانات کو نظرانداز کیا، مگر باضابطہ طور پر اس کی نفی یا تردید نہیں کی۔
نتیجہ
راہول گاندھی کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر بھارت میں خارجہ پالیسی اور قومی خودمختاری سے متعلق حکومت کے مؤقف پر بحث چھیڑ دی ہے، اور مودی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ ٹرمپ کے دعووں پر قوم کو جواب دے۔