نئی دہلی: بھارتی ریاست آسام کے ضلع دھوبری میں متنازعہ اراضی پر قبضے کے الزام کے تحت 750 سے زائد مسلمان خاندانوں کو بے دخل کردیا گیا۔
بے دخلی کے اس آپریشن کے دوران مسلمانوں کے گھروں، مساجد، دیگر عبادت گاہوں اور قبرستانوں کو بھی مسمار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق ضلع دھوبری میں انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر بے دخلی کی کارروائی کی، جس کے لیے 60 سے زائد بلڈوزر اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
750 سے زائد مسلمان خاندان بے گھر
رپورٹ کے مطابق متنازعہ اراضی پر قبضے کے الزامات کی بنیاد پر شروع کیے گئے آپریشن میں 750 سے زائد مسلمان خاندانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کردیا گیا۔ کارروائی کے دوران بلڈوزروں کے ذریعے مکانات اور دیگر تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہوگئے ہیں، جبکہ عبادت گاہوں اور قبرستانوں کی مسماری نے ان کے دکھ اور پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
مساجد اور قبرستانوں کی مسماری پر احتجاج
بے دخلی آپریشن کے دوران مساجد، دیگر عبادت گاہوں، مزاروں اور قبرستانوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر مقامی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔مسماری کے بعد علاقے میں غم و سوگ کی فضا دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں خواتین مسجد میں جمع ہوئیں اور دعائیں مانگتی رہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں بے گھر ہونے اور اپنی مذہبی و سماجی یادگاروں کے خاتمے پر شدید دکھ پایا گیا۔
آسام میں بے دخلی کی کارروائی پر سوالات
اس واقعے نے آسام میں اراضی سے متعلق بے دخلی کی کارروائیوں اور ان کے دوران متاثر ہونے والی آبادی کے حقوق کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر مساجد، قبرستانوں اور دیگر مذہبی مقامات کی مسماری پر مقامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔