روس اور یوکرین کے درمیان 1,000-1,000 قیدیوں کے تبادلے کا عمل جاری ہے، جو کہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا تبادلہ ہے۔
یہ پیش رفت 16 مئی کو استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد ہوئی، جہاں دونوں فریقین نے اس تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم یوکرینی حکام کے مطابق یہ عمل ابھی جاری ہے اور مکمل نہیں ہوا۔یہ تبادلہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا واحد ٹھوس نتیجہ ہے، کیونکہ دیگر اہم معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ روس نے یوکرین سے چار اہم علاقوں—زاپوریزیا، خیرسون، دونیتسک اور لوہانسک—سے دستبرداری کا مطالبہ کیا، جسے یوکرین نے مسترد کر دیا۔صدر ٹرمپ نے اس تبادلے کو "بڑی پیش رفت" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تبادلہ یوکرین کے شہر چرنیہیف کے قریب واقع ایک مقام پر ہو رہا ہے۔ یوکرینی عوام خاص طور پر ان قیدیوں کی واپسی کے منتظر ہیں جو ماریوپول کے آزووسٹال اسٹیل پلانٹ کے محاصرے کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔اگرچہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جنگ بندی کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ روس نے 30 دن کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ یوکرین نے اس پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ یہ تبادلہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم مکمل امن کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔