ترکی کے شہر استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا، تاہم دونوں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
مذاکرات کا پس منظر
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ 2022 سے جاری ہے اور کئی مرتبہ امن مذاکرات کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ پچھلے راؤنڈ میں طے پایا تھا کہ فریقین ایک میمورنڈم کا تبادلہ کریں گے جس میں امن کے لیے ممکنہ شرائط شامل ہوں گی۔
روس کی شرائط
روسی میڈیا کے مطابق، روس نے اپنی پیش کردہ دستاویز میں دو بڑے مطالبات شامل کیے ہیں:یوکرینی فوج کا ان علاقوں سے مکمل انخلا جہاں روس نے 2022 میں قبضہ کیا تھا، جیسے ڈونباس، لوهانسک، اور کریمیا۔یوکرین کو ملنے والی تمام غیر ملکی امداد، انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون بند کرنے کا مطالبہ، اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے پر زور۔
یوکرین کا ردعمل
یوکرینی نمائندوں نے روسی شرائط کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبات یوکرین کی قومی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہیں۔ یوکرینی وفد کے مطابق ایسی شرائط کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ابھی تک کسی نئے مذاکراتی راؤنڈ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کو ایک مثبت پیش رفت ضرور سمجھا جا سکتا ہے، مگر اصل تنازع کے حل کے لیے دونوں فریقین میں شدید اختلافات برقرار ہیں۔