روس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ جنگ بندی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی طرف ایک قدم ثابت ہو گی۔
تاہم روسی قیادت نے اس پیش رفت کی پائیداری کے حوالے سے محتاط رویہ بھی اختیار کیا ہے۔
سرگئی لاروف کا بیان
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا:"ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی خوش آئند ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں صورت حال اتنی پیچیدہ ہے کہ اس جنگ بندی کے مستقل ہونے کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔"انہوں نے واضح کیا کہ روس قبل از وقت امیدیں باندھنے سے گریز کرتا ہے اور تمام فریقین سے تحمل اور تعمیری رویے کی توقع رکھتا ہے۔
کریملن ترجمان کا مؤقف
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان نے بھی جنگ بندی پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا:"اگر واقعی جنگ بندی ہو چکی ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امید ہے یہ جنگ بندی پائیدار ثابت ہوگی اور خطے میں امن قائم رہے گا۔"
تجزیہ:
روس کا محتاط مؤقف مشرق وسطیٰ میں اس کی تاریخی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ماسکو نے ہمیشہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور اسرائیل سے متوازن روابط برقرار رکھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ روس خطے میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے مفاہمت اور استحکام پر زور دیتا ہے۔