لاہور سے افسوسناک حالات میں لاپتہ، گھر سے بھاگنے والے یا منشیات و زیادتی کا شکار 44 بچوں کو پولیس نے بازیاب کرا لیا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی سربراہی میں ان بچوں کو ان کے والدین کے سپرد کرنے کی ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔
بچوں کی بازیابی کی تفصیلات:
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا:"بچوں سے زیادتی، استحصال اور چائلڈ لیبر پنجاب پولیس کی ریڈ لائن ہے۔"انہوں نے بتایا کہ بازیاب ہونے والے بچوں اور ان کے والدین کی ماہرینِ نفسیات کے ذریعے کونسلنگ کروائی جا رہی ہے تاکہ انہیں معاشرے میں دوبارہ مربوط کیا جا سکے۔
بچوں کا تعلق کہاں کہاں سے؟
ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ:بازیاب بچوں کا تعلق لاہور، کراچی، گھوٹکی، سوات سمیت کئی شہروں سے ہے۔13 بچوں کو ان کے والدین کے سپرد کیا جا چکا ہے۔باقی بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو، ایس او ایس ولیج اور بحالی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔
گھروں سے بھاگنے کی وجوہات:
ایڈیشنل آئی جی نے مزید بتایا:13 بچے کام کی زیادتی اور کم عمری میں محنت مشقت سے تنگ آ کر گھر چھوڑ کر بھاگے۔15 بچوں نے والدین یا اساتذہ کی مار پیٹ یا ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے گھر چھوڑا۔16 بچے نشہ آور افراد کے ہاتھوں زیادتی اور منشیات کا شکار بنے۔
کارروائی اور اقدامات:
متاثرہ بچوں کو داتا دربار، ریلوے اسٹیشن، بس اڈوں جیسے حساس مقامات سے بازیاب کرایا گیا۔ان بچوں کو نقصان پہنچانے والے جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔آئی جی پنجاب نے اس موقع پر والدین کو بچوں کی حفاظت اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کی تاکید کی، اور بتایا کہ پنجاب پولیس بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے۔