خضدار حملہ ناقابل برداشت، بھارتی پراکیسز باز آ جائیں:اسحاق ڈار

چین نے اتفاق کیا ہے خطے میں بحران کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے، ہم دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کوشا ںہیں
 بھارت کو اپنی شکست سے سبق سیکھنا چاہیے، دہشتگردی کے مسئلے پر بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنا ہو گا ّ:صحافیوں کو بریفنگ‘سینیٹ میں اظہار خیال
 اسلام آباد (آئی این پی )نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس خطے میں بحران کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے، اس بات سے چینی راہنمائوں نے بھی اتفاق کیا ہے،پاکستان کا دہشت گردی کے حوالے سے  واضح  موقف ہے، ہم دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں،کئی ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا ،بھارتی جھوٹا بیانیہ بننے نہیں دیا ہم نے انڈیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کسی سے نہیں ڈرتا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے د ورہ چین کے بعد  جمعرات کو دفتر خارجہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے  کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا یہ دورہ عام دورہ نہیں تھا، یہ دورہ چین کے ہم منصب کی دعوت پر ہوا تھا، منگل کے روز چین میں چینی وزار سے ملاقاتیں ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ دورہ چین کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی بیجنگ میں موجود تھے، پاکستان کی جانب سے میں چینی وزیر خارجہ اور افغان قائم مقام وزیر خارجہ کی اہم ملاقات ہوئی، گزشتہ دورہ کابل میں افغان قائم مقام وزیر خارجہ کے ساتھ جو باتین طے ہوئی تھی ان پر بیجنگ ملاقات میں عملدرآمد کا فیصلہ ہو گیا۔وزیر خارجہ  نے کہا کہ بیجنگ میں دیگر وزرا سے بھی خوشگوار ماحول میں میٹنگ کا انعقاد ہوا، سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں پی ایم ایل این کی نمائندگی ہوگی‘سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا خضدار حملہ ناقابل برداشت ہے، بھارتی پراکیسز باز آ جائیں، بھارت کو اپنی شکست سے سبق سیکھنا چاہیے، دہشتگردی کے مسئلے پر بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دینے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہم نے 35 سے 40 ہزار افراد کو آنے دیا جس کی وجہ سے آج اس صورتحال کا سامنا ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر بھرپور توجہ ہے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ہمیں مل کر بیٹھنا چاہیے۔ اس فتنے کو ختم کرنا خطے کے لیے ناگزیر ہے