امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے، اور اس صورتحال میں ایرانی بحریہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
خاص طور پر اس وقت جب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔
ایرانی بحریہ کی افرادی قوت و اثاثے:
ایرانی بحریہ میں 18,500 افسران و اہلکار شامل ہیں۔بحری بیڑے میں 100 سے زائد جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔یہ فورس خلیج فارس اور بحیرہ کیسپین میں ایرانی مفادات کے تحفظ پر مامور ہے۔
عالمی درجہ بندی:
گلوبل فائرپاور 2024 کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ دنیا کی 145 بحری افواج میں سے 37ویں نمبر پر ہے۔اگرچہ اسے سپر پاورز کے مقابلے میں نہیں رکھا جا سکتا، لیکن ایرانی بحریہ موثر اور خطرناک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بحری ساز و سامان:
ایران کے پاس فریگیٹس، تباہ کن جہاز (Destroyers)، گشت کشتیوں، اور میزائل بردار کشتیاں موجود ہیں۔19 سے 27 آبدوزیں ایرانی بیڑے کا حصہ ہیں، جن میں سے بیشتر ڈیزل الیکٹرک ٹیکنالوجی پر مبنی اور کروز میزائلوں سے لیس ہیں۔ایران نے برطانوی ساختہ اور مقامی طور پر تیار کیے گئے جنگی جہازوں کو بھی اپنے بیڑے میں شامل کر رکھا ہے۔
جدید اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی:
اگست 2024ء میں ایران نے اپنی بحری قوت میں 2640 میزائل اور ڈرون سسٹمز کا اضافہ کیا، جن میں ایسے ڈرونز شامل ہیں جو ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایرانی بحریہ کے پاس پریسیشن گائیڈڈ میزائل، الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی، اور ریڈار جاسوسی سسٹمز بھی موجود ہیں۔
اسٹریٹیجک مقام:
ایران کی بحری قوت کی ایک بڑی برتری اس کی جغرافیائی پوزیشن ہے، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری گزرگاہ پر موجود ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز کو بند کرنا نہ صرف عالمی تجارت بلکہ امریکی و اسرائیلی مفادات کے لیے بھی بڑا دھچکہ ہوگا۔
موجودہ تناظر میں خطرات:
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بحری تناؤ بڑھ چکا ہے۔ایران کی جوابی کارروائیوں کے لیے بحری راستے سب سے موثر ہتھیار بن سکتے ہیں۔
نتیجہ:
ایرانی بحریہ کسی عالمی سپر پاور کے درجے پر تو نہیں، لیکن خطے میں موجود کسی بھی قوت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اس کی جارحانہ صلاحیت، اسٹریٹیجک مقام، اور جدید میزائل و ڈرونز سے لیس فورس ایران کو ممکنہ جوابی کارروائیوں میں ایک اہم کھلاڑی بنا دیتی ہے۔