امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے مختلف جنگی منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ دعویٰ CNN کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق پینٹاگون اس وقت متعدد عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے جن کا مقصد خطے میں ایران کی سرگرمیوں کا جواب دینا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ منصوبوں میں ایسے اقدامات بھی شامل ہیں جن کے تحت آبنائے ہرمز، جنوبی خلیج عرب اور خلیج عمان کے اطراف ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان اہداف میں وہ اثاثے شامل ہو سکتے ہیں جو ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ان میں Islamic Revolutionary Guard Corps کی تیز رفتار کشتیوں اور بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ بعض ایرانی فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنانے کا آپشن بھی زیر غور ہے، جنہیں امریکی حکام مذاکرات میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی بھی امریکی حکومتی ادارے کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔