ایران پر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر امریکی حملے قابل مذمت ہیں، بلاول بھٹو

ایران پر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر امریکی حملے قابل مذمت ہیں، بلاول بھٹو

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عالمی و علاقائی سیاست، قومی سلامتی اور بجٹ تجاویز پر پرجوش خطاب کیا، جس میں انہوں نے ایران پر امریکی حملوں، بھارت کی پالیسیوں، اور پاکستان کے قومی مؤقف پر کھل کر بات کی۔

ایران پر حملے کی مذمت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا:"ہم جھوٹ کی بنیاد پر ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، سائنسدانوں اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"انہوں نے اسرائیل کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:"اکتوبر سے نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، پہلے فلسطین، پھر یمن، اور اب ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔"
"ہمارے خطے میں ایک نیتن یاہو کی سستی کاپی ہے"
اپنی تقریر میں بلاول نے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا:"ہمارے خطے میں ایک نیتن یاہو کی سستی کاپی ہے، ہم نے اُسے جنگ، سفارتکاری اور بیانیے کے میدان میں شکست دی۔"انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:"جب کشمیر پر حملہ ہوا تو وہ کہتے رہے 'میں کیا کروں؟' لیکن موجودہ حکومت نے دشمن کے چھ جہاز گرائے، اور بھارت کو واضح پیغام دیا۔"
کشمیر کا مقدمہ اور بھارت پر تنقید
بلاول بھٹو کا کہنا تھا:"عمران خان کے دور میں بھارت کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے لگا تھا، مگر آج کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ بن چکا ہے۔"انہوں نے کہا:"بھارت کو صرف دو ہی آپشنز ہیں، یا سندھ طاس معاہدے کو تسلیم کرے یا پھر جنگ کے لیے تیار رہے، بھارت ہار چکا ہے اور پاکستان جیت چکا ہے۔"
پاکستان کی سفارتی کامیابیاں
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا:"بھارت نے پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ اقوامِ متحدہ میں بھی پاکستان جیت چکا ہے۔ انڈین اور اسرائیلی لابیز کی تمام سازشیں ناکام ہو چکی ہیں۔"
امن کی ضرورت پر زور
انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے فائدے کے لیے امن کو ناگزیر قرار دیا:"ہم بھارت کے عوام کا بھی مقدمہ لڑ رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان امن کا قیام خطے کے لیے ضروری ہے۔"
بجٹ اور معاشی پالیسیوں پر تبصرہ
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت کرے گی:دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔بی آئی ایس پی (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے بجٹ میں اضافے کو سراہا۔محنت کش طبقے پر زیادہ ٹیکس کی مخالفت کی اور تاریخی طور پر پنشن و تنخواہوں میں کیے گئے اضافے کا ذکر کیا۔انہوں نے وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:"ہماری حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں معاشی بہتری آئی ہے۔"
 تجزیہ
بلاول بھٹو زرداری کی تقریر میں داخلی اور خارجی امور پر بھرپور مؤقف پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے سفارتی میدان میں کامیابیوں، علاقائی کشیدگیوں کے اثرات، اور معاشی حکمت عملی کو قومی مفاد کے تناظر میں اجاگر کیا۔