ویب ڈیسک: بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔
ان واقعات میں بی جے پی کی حکومت پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی سرپرستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بےحسی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
اڑیسہ میں عیسائی برادری پر حملہ
بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع ملکانگیری میں ہندوتوا شدت پسندوں نے عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کیا۔بین الاقوامی شہرت یافتہ بھارتی تجزیہ کار ڈاکٹر اشوک سوائن نے اس واقعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ:"28 افراد ان حملوں میں شدید زخمی ہوئے، ہندو شدت پسندوں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہ بخشا، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔"
مودی سرکار پر شدید تنقید
ڈاکٹر اشوک سوائن نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا:"مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں رہا۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سیاسی سرپرستی میں ہو رہے ہیں، اور حکومت سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں بچی۔"
قتل و غارت اور مذہبی حقوق کی پامالی
اس حوالے سے بھارتی تحقیقی جریدے "نیوز ریل ایشیا" کی تفتیشی ٹیموں نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔تحقیقات کے مطابق:ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری کو تدفین جیسے بنیادی مذہبی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ہندوتوا شدت پسند نہ صرف مذہبی رسومات میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ انہیں سماجی بائیکاٹ اور تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اقلیتوں کے خلاف تشدد کا تسلسل
حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں:مسلمانوں کو گوشت کھانے، نماز ادا کرنے، یا مذہبی لباس پہننے پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔عیسائی مشنری اسکولز اور چرچز کو حملوں کا سامنا ہے۔
دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف بھی نسلی اور مذہبی امتیاز بڑھتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی خاموشی؟
متعدد عالمی تنظیموں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، مگر مودی حکومت کی سفارتی و معاشی قوت کے باعث سخت بین الاقوامی ردعمل تاحال دیکھنے میں نہیں آیا۔
تجزیہ
بھارت کا سیکولر اور جمہوری تشخص ان پے در پے واقعات سے بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔ اگر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بھارت کے اندرونی امن و استحکام اور بین الاقوامی ساکھ دونوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔