انتہا پسند مودی کے سیاسی آلے کے طور پر بھارتی فوج میں مذہبی تعصب، فرقہ واریت اور پیشہ ورانہ ساکھ کی تنزلی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
بھارتی جریدہ دی وائر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی فوج میں ہندو مذہب کی نمایاں موجودگی اور مذہبی رجحانات میں اضافہ، فوج کی تاریخ ساز سیکولر بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے دور حکومت میں فوجی مشقوں اور آپریشنز کے ناموں میں ہندو مذہبی حوالوں کا استعمال شروع ہوا، اور بھارتی آرمی چیف جنرل دویدی کی مندروں میں سرکاری دوروں پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے مسیحی افسر لیفٹیننٹ سموئیل کمالیسن کی بحالی کی درخواست مسترد کر دی، کیونکہ انہوں نے 2021 میں مندر اور گردوارے میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، جو مذہبی آزادی کے خلاف سمجھا گیا۔
دی وائر کے مطابق، بھارتی فوج کے اندر مذہبی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں، جو کئی دہائیوں سے چھپائے گئے تھے۔ مذہبی رسومات اور علامتوں کا استعمال بھارتی فوج کی سیکولر روایت کو کمزور کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں، بھارتی فوج کے اندر انتہا پسندانہ رجحانات میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ بھارت کے سیکولر تشخص کو مجروح کر رہا ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ قابض بھارتی فوج ہندوتوا نظریہ کی ذیلی شاخ بن چکی ہے اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے استحصال میں ملوث ہے۔