بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور مبینہ امتیازی سلوک سے متعلق ایک بین الاقوامی ریسرچ تنظیم کے بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق “سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ” کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقب حمید نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں مبینہ طور پر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے اقدامات پر ذمہ دار افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنظیم نے بعض بھارتی سیاسی و ریاستی رہنماؤں پر اقلیتوں کے خلاف سخت پالیسیوں اور اقدامات کا الزام عائد کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق موجود نہیں۔مزید برآں، رپورٹ میں مختلف تنظیموں جیسے آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور ان پر مبینہ طور پر اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کردار کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
اسی طرح آسام میں گھروں کی مسماری اور آبادی کی بے دخلی سے متعلق دعوے بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، تاہم ان اعداد و شمار اور واقعات کے حوالے سے باضابطہ سرکاری تصدیق یا آزاد تحقیق کے نتائج سامنے نہیں آئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حساس موضوعات پر مختلف تنظیموں کے بیانات اکثر سیاسی اور نظریاتی تناظر رکھتے ہیں، اس لیے ان کی آزادانہ تصدیق اور مختلف ذرائع سے جانچ ضروری ہوتی ہے۔