مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف، ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کو دھچکا

مودی کی سرپرستی میں رام مندر فنڈز چوری کا انکشاف، ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کو دھچکا

عالمی جریدے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے رام مندر کو نقد رقم، سونے اور چاندی کے زیورات کی صورت میں ماہانہ کروڑوں روپے کے عطیات موصول ہوتے ہیں، جبکہ ان عطیات کے انتظام اور استعمال سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

بھارتی تجزیہ نگار ایم کے وینو کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے دیے گئے عطیات کو مبینہ طور پر سیاسی مقاصد اور آر ایس ایس سے وابستہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔بھارتی جریدے دی وائر نے اس معاملے کو آر ایس ایس کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اس سے متعلق تحقیقات اور الزامات پر توجہ مرکوز کی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادیو نے دعویٰ کیا ہے کہ رام مندر منصوبے میں کم از کم 20 ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔

رپورٹس اور سیاسی بیانات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مندر کے ٹرسٹ میں شامل بعض افراد، جن میں مودی حکومت کے نامزد نمائندے، وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس سے وابستہ شخصیات شامل ہیں، مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔