صدر کو امریکیوں کی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے واضح جواب دینا ہوگا، سینیٹر چک شمر
حملہ مکمل اور واضح طور پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد ہے، الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے کا حکم دئیے جانے پر واشنگٹن میں سیاسی کشیدگی پیدا ہوگئی،سینیٹرز کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیاہے ۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق سینیٹ کے ڈیموکریٹ رہنما چک شمر اور دیگر سینیٹرز نے اس غیر متوقع فیصلے پر صدر سے فوری وضاحت طلب کر لی ۔ایکس پر جاری بیان میں امریکی خاتون رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر بمباری کا تباہ کن فیصلہ آئین اور کانگریس کے جنگی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ڈیموکریٹ رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جذبات میں آ کر ایک ایسی جنگ کا خطرہ مول لیا ہے جو ہمیں نسلوں تک الجھاسکتی ہے۔الیگزینڈریا کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر اور واضح طور پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد ہے۔سینیٹر چک شمر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے کا حکم دیا، جس کی انہیں وضاحت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو امریکی عوام اور قانون ساز اداروں کو اس کارروائی کے پیچھے محرکات، حکمت عملی، اور امریکیوں کی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے واضح جواب دینا ہوگا۔ سینیٹ میں دیگر ڈیموکریٹ اراکین، بشمول سینیٹر جین شاہین اور سینیٹر جیک ریڈ نے بھی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ خونریزی روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور تحمل، سفارت کاری اور عالمی روابط کو ترجیح دے۔