لاہور: جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکریٹری امیر العظیم کے انتقال پر جماعت اسلامی کی قیادت، کارکنان اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ امیر العظیم کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے مرحوم کے بھائیوں نور العظیم، اشرف العظیم اور اسد العظیم سے ملاقات کی اور ان کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر حافظ ادریس، نذیر احمد جنجوعہ، اظہر اقبال حسن، مشتاق احمد بٹ، فرحان شوکت، عامر انجم جعفری اور نصیر احمد سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔لیاقت بلوچ نے امیر العظیم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعا کی جبکہ اہل خانہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی دینی، سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطابق امیر العظیم کافی عرصے سے علیل تھے۔ وہ پہلے منصورہ اسپتال میں زیر علاج رہے، بعد ازاں انہیں کینسر کیئر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔
امیر العظیم کی زندگی اور سیاسی خدمات
امیر العظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ اسکول سنت نگر سے حاصل کی، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے فزکس اور ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔وہ طالب علمی کے دور سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں وہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر رہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔طلبہ سیاست کے دوران امیر العظیم نے ضیاء الحق دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ میں حصہ لیا اور اس جدوجہد کے دوران قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اسی عرصے میں انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔امیر العظیم نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں اور طویل عرصے تک تنظیمی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کے انتقال پر جماعت اسلامی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔