امریکی حملوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت برقرار، فوجی اہداف کیسے نشانہ بن رہے ہیں؟

امریکی حملوں کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت برقرار، فوجی اہداف کیسے نشانہ بن رہے ہیں؟

 اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کی عسکری صلاحیت سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل امریکی فضائی حملوں کے باوجود ایران یا اس سے منسلک عناصر خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 17 جون کو ہونے والے اس حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جو یکم مارچ کے بعد پہلی بار تھا کہ امریکی فوجی تنصیبات پر حملے میں امریکی اہلکار مارے گئے۔ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے حملے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم واقعے کو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلسل فضائی حملوں کے باوجود اس کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور وہ اب بھی طویل عرصے تک غیر روایتی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیفنس پرائرٹیز تھنک ٹینک میں عسکری تجزیے کی ڈائریکٹر جینیفر کیوانا کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں بدستور مؤثر ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے حملے زیادہ درست ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض تجزیہ کار یہ امکان بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کو روس اور چین سے انٹیلی جنس معاونت حاصل ہو سکتی ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

برطانیہ کی ایک جامعہ کے سینئر لیکچرر آندریاس کریگ کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تعینات تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایسے اڈوں پر موجود ہیں جو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی ممکنہ زد میں آتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اڈوں پر موجود متعدد رہائشی ڈھانچے بنیادی طور پر راکٹ حملوں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد سے تحفظ کے لیے تیار کیے گئے تھے، اس لیے جدید میزائل یا ڈرون حملوں کی صورت میں نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر میزائل اپنے ہدف سے کچھ فاصلے پر بھی گرے تو دھماکے کی شدید لہریں جانی نقصان یا دماغی چوٹوں کا سبب بن سکتی ہیں، جبکہ فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان میں سے تمام اموات براہِ راست ایرانی حملوں کا نتیجہ نہیں تھیں۔ ان میں مارچ میں فضائی ایندھن بھرنے کے دوران حادثے میں ہلاک ہونے والے 6 فضائی اہلکار اور عراق میں ایک مسلح ڈرون کو ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہونے والا ایک آرمی سارجنٹ بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 500 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 8 جولائی کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد تقریباً 220 فوجی تنصیبات، عمارتوں اور عسکری آلات کو نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔