مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیج میں جنگ کی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں روایتی ہتھیاروں کے بجائے الیکٹرانک وار فیئر، سیٹلائٹ معلومات اور ریڈار سگنلز فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق روس اور چین ایران کو حساس معلومات اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں، جس سے امریکا اور اسرائیل کی فوجی برتری کو چیلنجز درپیش ہیں۔امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس ایران کو خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی درست پوزیشن کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے، جبکہ چین نے ایران کو جدید ریڈار سسٹمز اور بیڈو-3 سیٹلائٹ نیوی گیشن فراہم کر کے ایرانی دفاعی صلاحیتیں بڑھائی ہیں۔ ایران بھی محدود جاسوس سیٹلائٹس کے ذریعے نگرانی کر رہا ہے اور جلد سی ایم-302 سپرسونک اینٹی شپ میزائل حاصل کرنے والا ہے۔ادھر امریکا اور اسرائیل بھی فعال ہیں اور حالیہ کارروائیوں میں ایران کے کئی ریڈار مراکز اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے سابق کمانڈر کے مطابق ریڈار کو تباہ کرنا دشمن کی نظر سے محروم کرنے کے مترادف ہے، جبکہ ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خطے میں تقریبا 10 جدید امریکی ریڈار سسٹمز تباہ کیے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اب خلیج کا خطہ ایسی جنگ کا میدان بن رہا ہے جہاں الیکٹرانک اسپیکٹرم، سیٹلائٹ معلومات اور انٹیلیجنس نیٹ ورک روایتی ہتھیاروں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ چین اس تنازع کو اپنی فوجی تجربہ گاہ کے طور پر دیکھ رہا ہے تاکہ مستقبل میں تائیوان کے ممکنہ تنازع کے لیے حکمتِ عملی بہتر بنا سکے، جبکہ روس کے لیے ایران کی مدد مغربی دباؤ کے جواب میں اسٹریٹجک مفاد ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اصل جنگ طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں بہتر دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔