ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی زیرِ زمین میزائل صلاحیت کا ایک حصہ دوبارہ بحال کر لیا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، فوجی ماہرین اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایران نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں نشانہ بننے والے اپنے میزائل انفراسٹرکچر کے بعض حصوں کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اردن میں واقع مووفق السلطي ایئر بیس پر حالیہ حملے نے ظاہر کیا کہ ایران اب بھی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مؤثر ذخیرہ رکھتا ہے، جو نہ صرف خطے میں موجود امریکی افواج بلکہ واشنگٹن کے اتحادی ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل دعویٰ کر چکے تھے کہ ایران کی فوجی اور میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، تاہم تازہ رپورٹ اس دعوے پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اردن میں امریکی فضائی اڈے پر حملے میں ایران نے اپنے جدید ترین ہتھیاروں میں شمار ہونے والے خیبر شکن درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل سمیت دیگر جدید میزائل نظام استعمال کیے، جنہیں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود محفوظ رکھا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق یہ جدید میزائل وسیع زیرِ زمین فوجی مراکز میں محفوظ تھے، جنہیں امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ مہینوں میں متعدد فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا، تاہم ایران نے ان تنصیبات کے داخلی راستے بحال کر دیے ہیں اور بعض اڈوں سے دوبارہ میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کی بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیتوں کی تیزی سے بحالی پر کام کر رہا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔