امریکا کے ایران پر حملوں کی چوتھی لہر، سات گھنٹے تک بمباری، درجنوں فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکا کے ایران پر حملوں کی چوتھی لہر، سات گھنٹے تک بمباری، درجنوں فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 14 جولائی کی رات ایران میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران درجنوں فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جبکہ اسی روز ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کر دی گئی۔

امریکی فوج کے بیان کے مطابق یہ کارروائی تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہی اور امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 10 بجے اختتام پذیر ہوئی۔ آپریشن میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں سے جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔بیان میں کہا گیا کہ حملوں کا مرکز آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فوجی تنصیبات اور ساحلی علاقے تھے، جہاں ایرانی میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔امریکا نے اسی روز شام 4 بجے سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی تمام فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور صدرِ امریکا کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔دوسری جانب ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے آبنائے ہرمز، عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔