امریکا نے نویں رات بھی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنا دیا

امریکا نے نویں رات بھی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنا دیا

 مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے مسلسل نویں رات بھی ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

 امریکی حکام کے مطابق کارروائیوں میں بحری دفاعی صلاحیتوں، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچ سائٹس اور فوجی مواصلاتی نیٹ ورکس پر حملے کیے گئے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا اور ان تنصیبات کو نقصان پہنچانا تھا جنہیں واشنگٹن اپنے مفادات، خطے میں تعینات افواج اور اتحادی ممالک کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کرتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق کارروائیوں میں جدید اور درست نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ شہری آبادی کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا اور مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ادھر اقوامِ متحدہ اور متعدد عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطہ ایک وسیع تر تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔