بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج جاری، متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے

بھارت میں نوجوانوں کا احتجاج جاری، متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے

نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج دہلی سے نکل کر مختلف ریاستوں تک پھیل گیا ہے، جہاں طلبہ اور نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مظاہرین حکومت سے تعلیمی نظام میں اصلاحات، شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے حکومت سے تعلیمی بے ضابطگیوں کا احتساب کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پیپر لیکس اور امتحانی نظام میں مبینہ خامیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے، جس پر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو، گوا، گجرات، بہار اور مغربی بنگال سمیت متعدد ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں طلبہ اور نوجوان حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مودی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لیا، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کے خلاف بھی احتجاج کیا۔کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے طلبہ کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے جا رہے ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی احتجاج سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں پُرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کے حق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔