اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج کے قریب 21 جولائی کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ٹریفک پولیس کے انسپکٹر نے ڈیوٹی پر مامور ریسکیو 1122 کے عملے کے ساتھ بدسلوکی کی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹریفک پولیس کا اہلکار ایمبولینس کے عملے سے الجھ رہا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہو رہی ہے۔ریسکیو 1122 کی جانب سے اسلام آباد کے ایس ایس پی ٹریفک کو باقاعدہ مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایمبولینس ایک ہنگامی کال پر موقعہ پر پہنچنے کے لیے سڑک کے ایک جانب سے مرکزی شاہراہ پر جانا چاہ رہی تھی، لیکن ٹریفک پولیس نے زبردستی اسے روکا۔ مراسلے کے مطابق نہ صرف اہلکاروں کو روکا گیا بلکہ نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے ان پر مبینہ تشدد بھی کیا گیا۔ریسکیو حکام نے اس واقعے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عمل نہ صرف ڈیوٹی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ ایمرجنسی رسپانس کے لیے بھی خطرناک ہے۔
ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے ملوث افسران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔اسلام آباد ٹریفک پولیس کا مؤقف جاننے کے لیے ادارے کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا اور پیغام بھی چھوڑا گیا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر عوامی سطح پر بھی اس واقعے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی خدمات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے اہلکاروں کو فوری سزا دی جائے۔